ہر سال ہزاروں پاکستانی افراد اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور بہتر ملازمت کے مواقع اور معیشت کی تلاش میں غیر قانونی طور پر منتقل ہونے کی کوشش کرتے ہیں – یہ بہت عام ہو گیا ہے اور اِس کو’ ڈنکی لگانا’ کہتے ہیں –

لیکن چیزیں بدل گئی ہیں. تارکین وطن کے تجربات کی حقیقتیں اکثر اس سے کہیں زیادہ ہیں جو وہ امید کرتے ہیں جب وہ فاچاق لوگوں کو بہت بڑی رقم ادا کر کے، سفر شروع کرتے ہیں-

خطرناک راستوں سے بارڈر کراس کرنے کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں.سفر کے دوران لوگوں کے ساتھ زیادتی اور اِن کا استحصال کیا جاتا ہے، یا ان کے خاندانوں کو انسانی اسمگلنگ میں ملوث مجرمانہ گروہوں کو زیادہ پیسے دینے پر مجبور کیا جاتا ہے-

وہ چند لوگ جو یورپی ممالک کی سرحدوں تک پہنچ جاتے ہیں جیسے کہ برطانیہ ،اِن کو فوری طور پر حراست اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑتا ہے. بہت کم افراد جو اِن ممالک میں داخل ہو جاتے ہیں، وہ بغیر کسی حقوق کے سائے میں زندگی کا سفر کرتے ہیں ،اور جہاں مصیبت اور استحصال کبھی دور نہیں ہوسکتا، اور یہ سفر اکثر سانحہ یا ملک بدری پہ ختم ہوتا ہے-

اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے لئے، یہ ممالک، ایسے لوگوں کو جو بغیر کسی قانونی دستاویزات کے قیام پزیر ہیں، ان کے خلاف سخت اقدامات لے رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو خارج کر دیا جائے دوسرے ملکوں سے ملک بدر ہونے والے پاکستانیوں کا پیمانہ وسیع ہے. سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2012 اور 2017 کے درمیان دیگر ممالک سے 544105 پاکستانی باشندوں کو خارج کر دیا گیا-
‘اس راہ پر’ کا مقصد لوگوں کو خطرات اور غیر محفوظ منتقلی کے منفی اثرات کے بارے میں تعلیم دینا ہے اور لوگوں کو اپنے ملک کے اندر موجود مواقع اور محفوظ، قانونی منتقلی کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے-

‘اس راہ پر’- آپکا سفر، آپکا اختیار- چلیئے سوچ سمجھ کر-

NAVTTC logo
BEOE logo